نئی دہلی،یکم /ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ملک کی گرتی معیشت پرتشویش ظاہر کی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سہ ماہی میں جی ڈی پی کا 5 فیصد پر پہنچنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ معیشت ایک گہری کساد بازاری کی طرف جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس تیزی سے ترقی کی شرح کا امکان ہے لیکن مودی حکومت کے فیصلے کی وجہ سے معاشی بحران آیا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ پریشان کرنے والا ہے کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ترقی کی شرح 0.6 فیصد پر لڑکھڑا رہی ہے۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری معیشت ابھی تک نوٹ بندی اور جلد بازی میں نافذکیے گئے جی ایس ٹی سے نکل نہیں پائی ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ ہندوستان اس مسلسل مندی کو جھیل نہیں سکتا ہے۔لہٰذاہم حکومت سے گزارش کرتے ہیں کہ اپنی سیاسی بدلے کے ایجنڈے کو کنارے رکھے اور سمجھدار لوگوں سے بات کر کے ہماری معیشت کو نئی راہ دکھائے جو پیدا کئے گئے بحران میں پھنس گئی ہے۔غور طلب ہے کہ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں آئے جی ڈی پی کی شرح 5 فیصد پر سمٹ گئی ہے اور مانا جا رہا ہے کہ ملک ایک بڑی مندی کی طرف جا رہا ہے۔حالانکہ حکومت کی جانب سے کئی اقدامات کیے گئے ہیں لیکن ان کو ناکافی بتایاجارہاہے۔وہیں ملک کی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی میں کمی کی بڑی وجہ عالمی کساد بازاری ہے لیکن ہماری ترقی کی شرح کئی ممالک کے مقابلے میں ٹھیک ہے۔